منگلورو:12/اکتوبر(ایس او نیوز) پیرمودے میں تعمیر کردہ آئی ایس پی آر ایل (انڈین اسٹراٹیجک پٹرولیم ریزرو لمیٹیڈ )کے زیر زمین تیل ذخیرہ مرکز میں ایران سے این ایم پی ٹی کے ذریعے جہازسے لائے گئے خام پٹرول کو بھرنا شروع کیا گیا ۔ پیرمودے میں زیر زمین تیل ذخیرے کی تعمیر ہونے کے ڈیڑھ سال بعد ایران سےبرآمد کئے گئے 0.25ملین ٹن خام پٹرول کو پمپ کے ذریعے بھرتی کیا گیا ۔ 650کروڑروپئے قیمت والے خام پٹرول کو تجرباتی طورپر نئے آئی ایس پی آر ایل میں بھرتی کیا جارہاہے، جس کا افتتاح رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے کیا۔ رکن اسمبلی محی الدین باوااور پریشد کے رکن کیپٹن گنیش کارنیک ، محکمہ کے اہم آفیسر راجن پلئی ، ڈائرکٹر ایچ کمارو غیرہ موجود تھے۔
جنگ کے زمانے میں یا پھر کسی قدرتی آفات کے موقع پر ملک کو ضروری پٹرول مہیا کرنے کے لئے وشاکھا پٹنم میں 1178.5کروڑ روپئے ، منگلورو کے پیرمودے میں 1227کروڑروپئے اور اُڈپی کے پادور میں 1693کروڑ روپئے سمیت کل 4098.35کروڑ کی لاگت سے چٹانوں کو توڑ کر 100کلومیٹر کی گہرائی میں سرنگ بناکر زیر زمین تیل ذخیروں کی تعمیر کئےجانے کی جانکاری نلین کمار کٹیل نے دی۔
2.5ملین میٹر ک حجم والے پادور کا تیل ذخیرہ مرکز مکمل تیار ہے جوکٹے کے قریب پائپ لائن کاکام باقی ہے، آئندہ دو مہینوں میں کام مکمل ہونےکے بعد تیل ذخیرہ کاری شروع ہونے کی بات کہی۔ زیر زمین تعمیر کردہ تین ذخیروں میں کل 5ملین میٹرک ٹن خام تیل ذخیرے کاانتظام ہے۔ متعلقہ محکمہ ہی اس کی نگرانی کرنے کی بات کہی۔ راجن پلئی نے بتایا کہ یہ ذخیرہ کاری کے مراکز میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے بر آمد کردہ خام تیل کو جمع کیاجاتاہے، اس طرح کی تکنیک ایشاء کے چین،جاپان اور کوریا کے علاوہ کہیں نہیں ہونے کی جانکاری دی ۔ جہاں تک پیرمودے ذخیرہ کا تعلق ہے امسال ایران سے کل 12جہاز تیل لے کر آئیں گے، جس کے نتیجےمیں مرکز تقریباً نصف بھر جائے گا۔
مشکلات کے دوران متعلقہ تینوں ذخیرہ مراکز پر جمع ہوئے خام پٹرول کو پورا ملک 13دنوں تک استعمال کرسکتاہے۔ اگر پیرمودے کا خام تیل ایم آر پی ایل ہی استعمال کرتاہے تو 36دنوں کے لئے استعمال کئے جانے کی راجن پلئی نے جانکاری دی ۔ انہوں نے تینوں مراکز کے حجم کی قوت بتاتے ہوئے کہاکہ وشاکھا پٹنم کا مرکز 1.33ملین ٹن کا حجم رکھتاہے پادور کا سب سے بڑا یعنی 2.5ملین ٹن تیل جمع رکھ سکتاہے ، اسی طرح پیرمودے میں 1.5ملین ٹن خام تیل ذخیرہ کیا جاسکتاہے۔ پیرمودے کا مرکز ملک کا دوسرا بڑا ذخیرہ اندوزی کا مرکز ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہاکہ 99.85فی صد کام ہوچکاہے ، فی الحال تجرباتی طورپر تیل جمع کیا جارہاہے، اس کے بعد مکمل طورپر کام شروع ہونے کی بات کہی۔